اذان خطبہ سے پہلے وعظ
سوال
ہم نے ایک مسئلہ کے متعلق چند سوال ارسال کئے تھے جسکا جواب ملا، مسئلہ خطبہ جمعہ کے متعلق تھا، اور یہ سوال تھا کہ جمعہ کی دوسری اذان سے پہلے اردو میں وعظ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ تو جناب نے یہ جواب ارسال فرمایا کہ جماعت کے مشورہ سے پہلے اذان ہی کے ساتھ ہی وعظ شروع کر دینا اور خطبہ اولی اذان سے دس بارہ منٹ پہلے قطعاً بند کر دینا تا کہ سنت پڑھنے والوں کو سنت ادا کرنے کا پورا وقت ملجائے اسی کے ساتھ میں نے یہ سوال بھی کیا تھا کہ پہلی اذان کے بعد وعظ کرنا امام یا مقتدی میں سے کسے جائز ہے ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے وعظ…
جواب
جمعہ کی اذان کے بعد جب مقتدی کو وعظ کہنا حدیثیں سنانا شرعاً درست اور دور صحابہ سے ثابت ہے تو امام کے لئے ممانعت کی کوئی وجہ نہیں، اصل تو یہ ہے کہ امام ہی وعظ کہے لیکن اگر امام دیگر دینی امور میں زیادہ مشغول اور عدیم الفرصت ہو تو مقتدی یہ کام انجام دے دے، خواہ دینی معتبر کتاب دیکھ کر ہو یا خواہ بلا کتاب لئے ہوئے سب طرح درست ہے مگر بات جو کہی جائے وہ صحیح ہونی چاہئے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔