الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بنگال کے دیہات میں جمعہ

سوال

بعض قری بنگال بلکہ اکثر متصل و مسلسل پے در پے دور دراز مسافت غالباً تین چار روز کم و بیش چلے گئے ہیں۔ یک دو کو ملا کے تین چار ہزار مردم شماری ہوگی اور مجموعہ اس آبادی و بستی میں لاکھوں بلکہ بیشمار مردم شماری ہے اور بعضے میں ڈاکخانہ اور بازار اور تھانہ بورڈ محکمہ بھی ہیں ایسی بستیاں قریہ کبیرہ ہیں یا نہیں اور ان میں نماز جمعہ فرض ہے یا نہیں اور احتیاط الظہر پڑھنا چاہئے یا نہیں؟

جواب

قری بنگال کا حال بہت مشتبہ ہے اور وہاں کے عام سکان بلکہ عام اہل علم کا حال بھی بہت ہی تعجب خیز ہے وہ یہ کہ جب وہ حضرات سفر کا ارادہ کرتے ہیں تو اپنے تالاب کے دوسرے کنارہ پر پہونچ کر قصر شروع کر دیتے اور کہتے ہیں کہ ہماری بستی ختم ہو گئی اور جب جمعہ کا تذکرہ آتا ہے تو تمام دور دراز کی آبادی کو اپنی بستی کی آبادی شمار کر کے کہتے ہیں کہ ہماری بستی یہاں تک ہے اس لئے بہتر یہ ہے کہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو