الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اٹھارہ سو کی آبادی میں جمعہ / بخدمت أقدس والا مرتبت جناب مفتی صاحب زید مجدہم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ

سوال

آج کل مختلف دیہات ومضافات میں جانے آنے سے معلوم ہوا کہ دارالعلوم دیو بند و مظاہر علوم سہارنپور سے قری صغیرہ جنگی آبادی ۱۸۰۰ یا دو ہزار ہو یا کچھ کم و بیش ہو اور نہ وہاں بازار ہوتا ہے ناہی روز مرہ کی دیگر ضروریات بسہولت بہم پہونچتی ہیں لیکن جواز جمعہ کے فتاوی صادر ہو رہے ہیں حالانکہ علامہ شامی کی تصریح و تقع فرضاً في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها اسواق سے صراحت بازار کی قید مفہوم ہوتی ہے ہاں اگر سوق کے لغوی معنی جائے فروخت لے کر دوکان مراد ہو اور پھر چونکہ أسواق جمع قلت ہے، اس لئے پانچ سات مختلف دوکانوں کے پائے…

جواب

حنفیہ کے نزدیک جمعہ کے لئے شہر یا قصبہ یا بڑا گاؤں ہونا ضروری ہے بڑا گاؤں وہ ہے جو اپنی ضروریات روزمرہ، ڈاکخانہ، شفاخانه، مدرسه، بازار وغیرہ وغیرہ کے لحاظ سے قصبہ کے مثل ہو اور تین چار ہزار کی آبادی ہو جو گاؤں ایسا نہیں ہے وہاں جمعہ جائز نہیں بلکہ روزانہ کی طرح جمعہ کے روز بھی ظہر کی نماز پڑھی جائے اگر ایسی جگہ جمعہ پڑھیں گے تو وہ نماز نفل ہوگی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو