جنازه شهید پر نماز
سوال
شہید کے اوپر بحسب الفتوی نماز جنازہ ہے یا نہیں، اگر نہیں ہے تو ان احادیث کا کیا جواب ہو گا جن میں یہ ہے کہ ان پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور حدیثیں شرح نقایہ میں صفحہ ۱۴۱ رولنا سے لے کر فان قیل تک ہیں، اگر کسی حدیث سے عدم صلوۃ بھی ثابت ہو تو ساتھ اس کے رواۃ پر جرح و تعدیل کے اعتبار سے بھی بحث ہے مع حوالہ مفصل جواب دیں؟
جواب
جس روایت میں نفی مذکور ہے، اسکا جواب یہ ہیکہ محدثین کے نزدیک نفی اور مثبت میں جب تعارض ہو تو ترجیح مثبت کو ہوتی ہے، حدیث مثبت متفق علیہ ہے، جواب ان کے ذمہ ہے جو منکر ہیں ان منقولہ احادیث کا بھی اور شرح نقایہ کی روایت کا بھی آثار السنن جلد ۲ ص ۱۲۱ر میں نسائی بالطحطاوی، ابن ماجہ سے طبرانی تبیین الحقائق ج ۱ / ص ۲۳۸ / باب الشہید طبع امدادیہ ملتان۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔