میت کے تین ٹکڑے ہونے پر صلوٰۃ جنازہ اور اسکی تدفین
سوال
(۱) زید پہلے سے شرابی تھا، ایک دن کسی نے خوب شراب پلا کر اس میں زہر دے کر اسے ختم کر دیا، اس کے بعد اس کے تین ٹکڑے کئے، ایک گردن تک، دوسرا کمر تک، تیسرا پاؤں والا حصہ، اسکے بعد اسکے تین بنڈل اسطرح بنائے کہ اسمیں پانی کا اثر نہ ہو سکے، اور اگر اسکو کنویں میں ڈال کر آئندہ نکل نہ سکے اس کا پورا انتظام کر دیا، خدا کی قدرت کہ سی آئی ڈی کی تحقیق سے پورے تین ماہ بعد اس لاش کو اسمیں سے مذکورہ صورت پر نکالی گئی، اسکی مزید تحقیقات کیلئے دو ماہ تک سرکار کے پاس رہی اب سوال یہ ہیکہ اسکو کفن دفن کی کیا صورت ہوگی؟ (۲)
جواب
اسکی نعش کے جب تین حصے کر دئے گئے اور جسم کی ہیئت ترکیبیہ باقی نہیں رہی، اور اجزاء منحل ہو گئے، تو اس پر نہ نماز جنازہ ہے نہ اس کیلئے کفن مسنون ہے، نہ غسل میت ہے بلکہ اس کپڑے میں لپیٹ کر مسلم قبرستان میں دفن کر دیا جائے، جس میت کو بغیر نماز جنازہ دفن کر دیا جائے اسکے متعلق فقہاء لکھتے ہیں کہ جب تک میت کے تفسخ کا ظن نہ ہو اس وقت تک اسکی قبر پر نماز جنازہ پڑھی جائے، اسکے بعد…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔