نماز جنازہ کی صفوف میں کتنی جگہ رہے؟
سوال
جنازہ کی نماز میں صف بندی کرنا قائم مقام رکوع و سجود کے جگہ چھوڑنا کیسا ہے؟ نماز جنازہ میں سلام پھیرنے کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگنا کیا حرام ہے؟ اور جس نے ایسا کیا اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ یہاں لوگوں میں بہت تکرار ہے، کچھ لوگوں نے کہہ دیا کہ یہ دیوبندی عقائد کی مسجد ہے، بریلی عقائد کا جو بھی نام لے گا قتل کر دیا جائے گا، اور مسجد میں بریلی عقائد کے لوگ نماز نہیں پڑھ سکتے، اس بارے میں کچھ لوگ امام کے ساتھ ہیں اور کچھ مخالف ہیں براہ کرم جواب تفصیل سے عنایت فرمائیں۔
جواب
نماز جنازہ میں نہ رکوع ہے نہ سجدہ لہذا صف بندی کے وقت رکوع سجدہ کی جگہ چھوڑنا بے محل ہے، نماز جنازہ میں میت کیلئے مستقل دعا موجود ہے بلکہ دعا ہی کیلئے نماز جنازہ مشروع ہوئی ہے، کہ حمد وثناء اور درود شریف (پہلی تکبیر کے بعد) پڑھ کر میت کیلئے دعا کی جائے، سلام پھیر کر ہاتھ اُٹھا کر دعا کرنا ثابت نہیں خلاصۃ الفتاویٰ وغیرہ میں اس کو منع فرمایا ہے، یہ مکروہ ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔