الم کے شعر میں لفظ حریف کی تحقیق
سوال
مندرجہ ذیل اشعار اور اسکا مضمون خلاف شریعت ہے یا کہ نہیں؟ جب کہ اس کے ظاہری ترجمہ سے قرآن وحدیث کی صریح مخالفت ثابت ہوتی ہے اور شعر کہنے والے کو شرعی اصطلاح میں کیا کہا جائے گا؟ چونکہ مندرجہ ذیل شعر میں الم مظفر نگری نے خود کو روح الامین کا حریف ظاہر کیا ہے، اور وہ بھی نغمات میں، کیا روح الامین بھی ایسے نغمے پڑھتے ہیں؟ جیسے الم مظفر نگری فرماتے ہیں۔ شعر یہ ہے: تیری شہرت الم پہونچی ہوئی ہے بام سدرہ تک تیرے نغمے حریف روح الامیں نکلے
جواب
ایک استاد کے دو شاگرد ایک ساقی کے دو مئے نوش ایک افسر کے دو ماتحت یعنی شریک کار بھی حریف کہلاتے ہیں، اور مقابل بھی آپس میں حریف کہلاتے ہیں جیسے کہ: چو با حبیب نشینی وبادہ پیمائی بیاد آر حریفان باده پیما را اور جیسےحریفان باده خوردند رفتند اور جیسے صد شکر ہے کہ ان سے ملاقات تو ہوئی یہ اور بات ہے کہ حریفانہ ہوگئی معنی اول کے اعتبار سے روح القدس کے سب حریف ہو سکتے ہیں جس کا حاصل…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔