الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کسی کو یہ کہنا کہ اس کے دل میں کفر بھرا ہوا ہے

سوال

کوئی شخص ذاتی غضب کی بنا پر اگر کسی کو کہے کہ اس کے دل میں کفر بھرا ہوا ہے تو ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

کسی کے متعلق یہ کہنا کہ اسکے دل میں کفر بھرا ہوا ہے بہت سخت اور خطرناک بات ہے، ہرگز ایسا نہ کہا جائے، دل کا حال اللہ کے سوا کسی کو نہیں معلوم، حضرت نبی اکرم ﷺ پر وحی آتی تھی بعض کے متعلق بتایا جاتا تھا اس لئے کبھی آپ اسکو ظاہر بھی فرما دیتے، اب کسی کو یہ حق نہیں، جو اعمال سرزد ہوتے ہیں ان کے متعلق جائز ونا جائز کا حکم بتایا جا سکتا ہے، اسلامی اور غیر اسلامی اخلاق کی تعیین کی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو