استنجے کے لئے”کلوخ“ لینا اس کو سینما فلم کہنا
سوال
اس طرح ایک شخص نے کہا، مثال کے طور پر کلوخ لینا حدیث کا حکم ہے لیکن آدھا من ایک من کا ڈھیلا مت لو اس مقدار سے زیادہ مت لیجئے، عالم صاحب نے اس طرح بولا تھا، عرض یہ ہے کہ قرآن وحدیث کی طرف مائل کرنے کیلئے بولا، سامعین میں سے ایک سامع بولا کہ سنیما ہے کہ فلم ہے۔ علماء کرام کو سینما فلم کہہ کر بولا، ایسے شخص کے لئے کیا فتوی ہے؟
جواب
کلوخ کا مسئلہ اس طرح بیان کرنا درست ہے اور سینما یا فلم کہنا غلط ہے اس سے پرہیز کرنا چاہئے، کہنے والے نے قرآن وحدیث کو سینما وفلم نہیں کہا بلکہ کلوخ کے مسئلہ کا جو عنوان اختیار کیا گیا ہے اسکو کہا ہے، اسلئے اس کہنے والے پر کوئی ایسا سخت حکم نہیں ہوگا، جو قرآن وحدیث کی توہین کرنے والے پر ہوتا ہے، البتہ اسکو ایسا کہنے سے بھی منع کیا جائیگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔