جان بچانے کے لئے کفر کا اقرار
سوال
زید کہتا ہے کہ ایسے موقع پر جب کہ کوئی مسلمان بیچ کفار ومشرکین کے پھنس جائے اور جان چھڑانے کا کوئی ذریعہ نہ ہو بجز اس کے کہ وہ جھوٹ کہدے کہ میں مسلمان نہیں ہوں، جب امان کی جگہ پہونچ جائے تو اس جھوٹ سے وہ توبہ کر لے، ایسا وقتی طور پر صرف زبان سے کہدینے سے وہ شخص گنہگار نہیں ہوگا، البتہ ایسا کہنا جان کے خوف کے وقت ہی بہتر ہے، بکر کا کہنا ہے کہ ہر حالت میں خواہ جان ہی کیوں نہ چلی جاتی ہو ایسا کہنا بالکل گناہ بلکہ کفر ہے، اس میں زید کا قول صحیح ہے یا بکر کا؟
جواب
زید کا قول صحیح ہے حضرت عمار بن یاسر کا واقعہ اسکا ماخذ ہے، جس پر آیت الا من اکره وقلبه مطمئن بالایمان نازل ہوئی تھی، ردالمختار وغیرہ کتب فقہ میں بھی صراحت مذکور ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔