الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تناسخ کے قائل کا حکم

سوال

میرا ایک دوست جو اپنا کاروبار نہایت خوش اسلوبی سے چلا رہا ہے جس کی وجہ سے اسکی دماغی حالت غیر اطمینان بخش بھی نہیں کہی جاسکتی وہ اس خبط میں مبتلا ہے کہ وہ اس سے پہلے بھی پیدا ہو چکا ہے اور اس دور کے کچھ حالات بھی من گھڑت طور پر بتلاتا ہے غرض یہ کہ وہ کافی حد تک تناسخ کا قائل تھا اور ہے اور کہتا ہے کہ میری آئندہ پیدائش کتے کی شکل میں ہوگی، اب سوال یہ ہے کہ یہ شخص دائرہ اسلام ہو چکا یا نہیں؟ نیز اس کے ساتھ نشست وبرخاست، خلط ملط مناسب ہے یا نہیں؟ وہ نماز بھی پڑھتا ہے اور مسلمان ہونے کا دعویدار بھی ہے۔

جواب

غلط صحبت اور غلط کتابوں کے مطالعہ سے ایسا اثر پیدا ہو جاتا ہے، بہتر صورت یہ ہے کہ اس سے نرمی ومحبت کا معاملہ کیا جائے حضرت نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ کا مطالعہ نیز بزرگان دین کے حالات وملفوظات کا مطالعہ مفید ہوگا، کسی صاحب نسبت بزرگ کی خدمت میں چند روز رہنے کا موقع مل جائے تو زیادہ نفع کی توقع ہے مثلاً حضرت مولانا مسیح اللہ صاحب مدظلہ (جلال آباد ضلع مظفر نگر)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو