الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کسی غرض کے لئے ظاہراً کفر اختیار کرنا

سوال

ایک شخص نے کسی دنیاوی لالچ اور یہ سوچ کر کہ میں شادی کرنے کے بعد مسلمان ہو جاؤں گا، بظاہر اسلام چھوڑ دیا، اور پھر مہینہ دو مہینہ کے بعد مع عورت کے مسلمان ہو گیا، یا ارادہ رکھتا ہے کہ اسلام چھوڑ دوں، اور مہینہ دو مہینہ کے بعد مسلمان ہو جاؤں گا، اس کے لئے کیا حکم ہے؟ یہ ارادہ پختہ ہے کہ پھر میں اپنے دین میں مل جاؤں گا، دلی اسلام نہیں چھوڑتا ظاہراً کفر قبول کرتا ہے، اس کا جواب مع حوالہ کتب تحریر فرمائیں؟

جواب

ایسا کرنا جرم عظیم اور کفر ہے، کیا خبر ہے کہ دوبارہ اسلام قبول کرنے سے پہلے موت آجائے، اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنا پڑے، اور توبہ کی توفیق ہی نہ ہو، اور جو شخص ایک یوم یا ایک ساعت کے لئے کفر کا قصد کرے وہ تمام عمر کے لئے کافر ہو جاتا ہے، اور تمام عبادات باطل ہو جاتی ہیں، ومن قصد الكفر ساعة او يوماً فهو كافر في جميع العمر بحر، ج ۱ ص ۱۲۳ / جو شخص دوسرے کو کلمہ کفریہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو