الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حرام مال سے دعوت اور اس پر بسم اللہ

سوال

زید کو بینک کے ملازم کی دعوت پر جب یہ کہا گیا کہ بعض اہل علم ہمارے کھانے کو حرام قرار دیتے ہیں تو زید جو کہ صوفی مشہور ہے اس نے فوراً بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شئ في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم پڑھ کر کھانا شروع کر دیا اور اہل علم پر جو ایسی دعوت کو نا جائز قرار دیتے ہیں غلطی کا حکم جاری کر دیا، تو زید کا یہ قول شرعاً کیسا ہے؟ اور کیا اس کی تکفیر کی جاسکتی ہے یا نہیں؟

جواب

جو چیز حرام محض ہو اس کی حرمت پر اجماع ہو اور اسکی حرمت ضروریات دین سے ہو اس کو حلال اعتقاد کرنا کفر ہے اور اس چیز پر بسم اللہ پڑھنے سے بھی فقہاء نے تکفیر کی ہے: من قال عند ابتداء شرب الخمر او الزنا او اكل الحرام بسم الله كفر فيه انه ينبغي ان يكون محمولاً على الحرام المحض المتفق عليه وان يكون عالماً بنسبة التحريم اليه بان يكون حرمته مما علم من الدين بالضرورة الخ شرح فقه اکبر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو