الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

«ВаЛлаху а'лям» в конце письма и урока

سوال

زید کی عادت ہے کہ خط لکھتے وقت نیز مسئلہ کا جواب لکھتے وقت خط کے ختم پر لکھتا ہے واللہ اعلم اور یہ کلمہ بطور ختم کی نشانی کے لکھتا ہے کہ اس کلمہ کو دیکھ کر سمجھ لیا جائے کہ بات ختم ہو گئی تو زید کا یہ طریقہ شرعاً کیسا ہے، اسی طرح سبق کے ختم پر کہتا ہے کہ واللہ اعلم جواب مع حوالہ عنایت ہو۔

جواب

اس نیت سے یہ کلمہ کہنا اور لکھنا مکروہ ہے۔ درمختار میں” کتاب الحظر والاباحة کے ختم پر منظومہ ابن وہبان سے نقل کیا ہے۔ اس کی شرح کرتے ہوئے علامہ شامی نے لکھا ہے ” اما اذا لم يكن اعلاماً بانتهائه لا يكره لانه ذكر وتفويض بخلاف الاول فانه استعمل آلة للاعلام اه رد المحتار، ج ۵ ص ۲۷۷ یعنی اگر واللہ اعلم اسلئے کہتا ہے کہ دیکھنے والے کو بات کا ختم ہونا معلوم ہو جائے تو مکروہ ہے،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو