قرآن شریف سنانے پر کچھ لینا دینا
سوال
(۱) حافظ کو قرآن پاک وغیرہ سنا کر روپیہ لینا کیسا ہے، حرام ہے یا حلال بالتفصيل مع حوالہ بیان فرمائیں؟ (۲) اگر مسجد والے یا محلہ والے لوگ یا کوئی خاص امیر آدمی حافظ کی خدمت کرے ختم قرآن پر ہو یا درمیان میں ہو وہ کیسا ہے، ان کا خیال قرآن کی اجرت دینے کا نہیں، اور قطعی خیال حافظ کا ہو کہ میں اجرت قرآن لے رہا ہوں، وہ لینا درست ہے یا نہیں؟ (۳) اگر حافظ قرآن مجید سنانے کی اجرت مقرر کرے درست ہے یا نہیں، ہرسہ سوال کا جواب علیحدہ علیحدہ دیں؟
جواب
(۱) حرام ہے لقولہ تعالیٰ ”ولا تشتروا بایاتی ثمناً قليلاً“ (۲) اگر حافظ کی اس موقعہ پر خدمت کرنے کا قطعاً رواج نہیں، نہ کوئی دیتا ہے، نہ لیتا ہے، بلکہ محض ثواب کیلئے سنتے اور سناتے ہیں، اور حافظ کو اس کا پختہ یقین ہوتا ہے، کہ یہاں سے کچھ نہیں ملے گا، نیز اس کو کچھ نہ دیا گیا، تو اس کے دل میں اسکا خیال نہیں آئیگا، اور آئندہ سنانے سے کسی طرح پہلو تہی نہیں کریگا، تو خدمت کرنا درست…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔