الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مکان کرایہ پر دینے کے لئے پگڑی

سوال

آج کل مالک مکان یا دوکان کرایہ پر جائیداد دیتے وقت ۲۵-۳۰/ ہزار پگڑی بھی لیتے ہیں، اور بعدۂ طے شدہ کرایہ ماہ بماہ یا سال ادا کرتے ہیں، تو یہ پیشگی رقم تو خالی عن العوض ہے، یہ پگڑی شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اجرت کی دو قسمیں قرار دے لی جائیں، ایک معجل جس کی یکمشت مقدار متعین ہو، دوسری قسط وار ہر ماہ یا ہر سال ہے، اول کو عرف میں پگڑی کہتے ہیں، ثانی کو کرایہ داری کہتے ہیں، اس طرح اگر مالک مکان یا دوکان کسی کو کرایہ پر دے تو بظاہر گنجائش معلوم ہوتی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو