مکان کی پگڑی
سوال
جو پگڑی پر دوکانیں دی جاتی ہیں، لی جاتی ہیں، کیا جائز ہے یا نا جائز؟ اگر جائز ہے، تو صورت جواز کیا ہو سکتی ہے، اور اگر نا جائز ہے تو کس وجہ سے ناجائز ہے، نیز ایک آدمی کے قبضہ میں دوکان عرصہ طویل سے تھی، اب وہ شخص بیمار ہوکر تقریباً چار پانچ سال سے گھر پڑا ہوا ہے، اور دوکان بند پڑی ہے، اور وہ شخص اس دوکان کا کرایہ ادا کرنا مفت کا سمجھتا ہے، چونکہ وہ بیمار پڑا ہے گھر پر، تو کیا وہ شخص اس دوکان کو پگڑی پر دیکر کرایہ وصول کر سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
مالک دوکان اپنی دوکان کسی کو کرایہ پر اس طرح دے کہ مثلاً یہ دوکان ایک سال کیلئے کرایہ پر دیتا ہوں، بیس روپیہ ماہوار کرایہ ہوگا، اور چار سو روپیہ پگڑی کے اور ایک ماہ کا کرایہ پیشگی لوں گا، تو یہ صورت درست ہے، اور یہ کہا جائے کہ عموماً سال میں سے پہلے مہینے کا کرایہ چار سو بیس روپے ہیں، جو پیشگی ہے، باقی گیارہ مہینہ کا کرایہ بیس روپے ماہانہ ہے، کرایہ دار کے لئے اس کی اجازت نہیں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔