الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے تنخواہ نہیں ملی، اب روپیہ ہونے کی صورت میں ان کو وصول کرنا

سوال

زید نے ایک امدادی مدرسہ میں تمام گاؤں والوں کے رکھنے سے مبلغ چھ روپیہ ماہانہ طے پا کر تعلیم کا کام شروع کیا، اور تقریباً تین سال تک برابر اپنے فرض منصبی کو انجام دیتا رہا، اس درمیان میں تنخواہ بھی وصول ہوتی رہی، روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے اکثر کئی کئی ماہ کی تنخواہ ایک دم ضرور ملی لیکن حساب صاف ہوتا رہا، زید بھی اپنے کام میں مشغول رہا، اس تین سال کی زندگی کے بعد ایک شخص کہتا ہے میں آپ کی تنخواہ کا ذمہ دار نہیں، گاؤں والے دیں یا نہ دیں، زید نے اس ایک شخص کے کہنے پر کچھ زیادہ توجہ نہ کی اور یہ خیال کیا کہ یہ وصولیابی…

جواب

جب کہ زید نے تمام گاؤں والوں کے رکھنے سے ملازمت اختیار کی ہے، تو صرف ایک غیر ذمہ دار شخص کے اس کہنے کی وجہ سے کہ میں آپ کی تنخواہ کا ذمہ دار نہیں، گاؤں والے دیں یا نہ دیں؟ ملازمت ختم نہیں ہوئی، لیکن اگر وہ شخص ذمہ دار تھا اور تمام گاؤں والوں نے جن سے ملازمت کا معاملہ طے ہوا تھا، اس کو اپنا نائب یا وکیل یا مختار کل بنا دیا تھا، تو ملازمت کا معاملہ ختم ہو چکا تھا، اس آخری صورت…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو