الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پگڑی

سوال

ممبئی میں عام طور سے لوگ دوسروں کی بلڈنگوں میں کرایہ پر رہتے ہیں، جن کو مالک مکان بھی قانوناً نکال نہیں سکتا ہے، اسے صرف کرایہ وصول کرنے کا حق ہے، اور بوقت ضرورت کرایہ دار اپنے ان مکانوں کو جوان کی ملکیت نہیں آپس میں بڑی بڑی رقم پر خرید و فروخت کرتے ہیں، یہاں اس رقم کو پگڑی“ کہتے ہیں، اس معاملہ میں اصل مالک کو دخل نہیں ہوتا، حالانکہ اس طرح کا معاملہ قانوناً بھی جرم ہے، مگر اس کے باوجود اس کا عام رواج ہے، اور سب جانتے ہیں کہ اس کے لئے مستقل دلال ہوتے ہیں، جو درمیان میں پڑ کر معاملہ طے کراتے ہیں، کسی کو مکان نہیں مل…

جواب

کرایہ دار کو اس کا حق ہے کہ جس کرایہ پر اس نے مکان لیا ہے، اسی کرایہ پر دوسرے کو وہ مکان دیدے لیکن جتنا کرایہ اس نے مالک مکان کو دیا ہے، اس سے زیادہ کرایہ کسی سے وصول کرنے کا حق نہیں، البتہ اگر مکان میں الماری وغیرہ لگا کر اس کو شاندار بنا دیا ہے، تو جس قدر اس نے خرچ کیا ہے اس کو وصول کرنے کا حق ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو