پگڑی میں مالکان مکان کا حصہ
سوال
اس طرح معاملہ ہو جانے کے بعد بائع و مشتری دونوں مالک مکان کے پاس جاتے ہیں، اور طے شدہ رقم کا ایک حصہ مثلاً چوتھائی اسے دیتے ہیں، اس کے بعد وہ مکان کے کرایہ کابل (رسید) نئے کرایہ دار کے نام کر دیتا ہے، تا کہ اس کی طرف سے اور قانون کی طرف نئے سے کرایہ دار کو حق رہائش حاصل ہو جائے، مالک مکان کرایہ تو وصول کرتا ہی ہے، اس کے علاوہ اس صورت میں مزید رقم وصول کرتا ہے، عام طور سے یہ رقم پرانے کرایہ دار نئے کرایہ دار یا مشتری سے یوں وصول کرتا ہے، کہ اگر پندرہ ہزار میں معاملہ طے ہوا ہے، تو اس سے مالک مکان کے حصہ کا مزید پانچ…
جواب
اس مالک مکان کو حق ہے، کہ جس کرایہ پر چاہے مکان دے، اور دوسرے کرایہ دار کو دینا چاہے تو اس سے بھی جو معاملہ چاہے طے کرلے، نیز اس کو حق ہے کہ جس قدر چاہے پیشگی طے کرلے لیکن ایک کرایہ دار کو حق نہیں کہ وہ اس کرایہ سے زیادہ کسی کرایہ دار سے وصول کرے، جو خود ادا کرتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔