حکم کے لئے حق محنت اور فریقین کے یہاں کھانا
سوال
زید اور عمر دونوں میں نزاع ہوا، بکر کو دونوں نے فیصل مان لیا، بکر نے کہا کہ میری ایک شرط ہے، اگر تم دونوں راضی ہو تو فیصلہ کرنے پر تمہیں اس نزاع میں مجھ کو دس روپیہ دینا ہوگا، دونوں راضی ہو گئے لیکن شرط میں کھانے پینے کی کوئی بات نہ تھی، مگر بکر نے دونوں کے گھر میں کھایا یا ایک کے گھر میں کھایا، تو بکر کے لئے یہ سب جائز ہے یا نہیں؟
جواب
روپیه بطور خدمت و محنت لینا درست ہے، کھانا ایک فریق کے یہاں ٹھیک نہیں، اس میں رشوت کا شائبہ ہے، اگر دونوں فریق کا کھانا کھایا تو درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔