الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اُجرت پر ملک کا تحقق کب ہوتا ہے؟ اور ملازمین کے فنڈ پر ہدایہ کی عبارت سے اشکال

سوال

بعض مدارس میں ایک قسم کا فنڈ مدرسین و ملازمین کے لئے جاری کیا گیا ہے، جس میں تنخواہ میں سے مہینہ پورا ہونے پر کچھ حصہ کاٹ کر مدرسہ میں جمع رکھا جاتا ہے، اور مدرسہ اپنی طرف سے کچھ اس میں اضافہ کرتا ہے، اس طرح ان کے لئے رقم جمع کی جاتی ہے، جو ملازمت کے ختم ہونے پر ان کو دی جائے گی، تا کہ اس کو اپنے موقع پر پریشانی نہ ہو، اب اس میں سوال یہ ہے کہ صاحب ہدایہ کی تشریح کے مطابق استیفاء منافع پر اجیر اجرت کا مالک ہوتا ہے، نیز تنخواہ کے رجسٹر میں اس پر ملازم کے دستخط بھی ہو جاتے ہیں، اور عرفاً وہ بقایا ملازمین اپنا ہی تصور…

جواب

ہدایہ میں ثبوت ملک سے مراد حقیقت ملک نہیں بلکہ استحقاق ملک مراد ہے، جیسا کہ عنوان باب سے ظاہر ہے ”باب الاجر متى يستحق“ اور متن میں ہے ” قال الاجرة ” لا تجب بالعقد وتستحق باحدى معاني ثلاثة“ محشی نے بھی اسی کی تشریح کی ہے، امداد الفتاوی میں خوب تفصیل سے اس پر بحث موجود ہے، امید ہے کہ اب اس تقدیر پر اشکال نہیں ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو