الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سفیر کی خوراک جزو تنخواہ پر

سوال

مدرسہ کا چندہ کرنے کیلئے جو مدرس یا سفیر باہر جاتے ہیں، ان کی تنخواہوں کے ساتھ ان کا کھانا بھی منجانب مدرسہ طے ہوتا ہے، چنانچہ کہیں ستا کہیں مہنگا، جیسا بھی ملتا ہے، مدرسہ کا خرچ ہوتا ہے، اس کی کوئی مقدار معین نہیں ہے، اگر یہ غیر معین ہونے کے باوجود اس لئے درست ہو کہ مستاجر کے ذمہ اجیر کا کھانا بھی سفر کی حالت میں ہوگا، تو فبہا، ورنہ کیا یہ صورت جواز کی ہو سکتی ہے، کہ جن اوقات میں اہل خیر حضرات اس سفیر کو کھانا کھلائیں، جیسا کہ عام دستور ہے کہ مدرسہ کی اعانت سمجھ کر سفیر کو کھانا کھلا دیتے ہیں، ان اوقات کے علاوہ…

جواب

اسی ذیل میں یہ کھانا داخل کر لیا جائے، جس کو آپ نے ”فبها لکھا ہے، اگر تنخواہ کا جزء قرار دے کر ایک روپیہ یومیہ مثلاً مزید تجویز ہو جائے، تو اس کی بھی گنجائش ہے، خواہ یہ مزید کل یا جزء خرچ ہو جائے، یا بچ جائے، اور بالکل مزید ہی بن جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو