الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کرایہ داری منتقل کرنا

سوال

زید جامع مسجد کھتولی کی ایک دوکان کا کرایہ دار عرصہ دراز سے چلا آتا تھا، آٹھ سال قبل اپنے بھائی محمد اسلم اور ایک دیگر شخص محمد الیاس کو کاروبار مشترک کرنے کی غرض سے مکان مذکور دے دیا تھا، اور کرایہ داری بعد تک جاری رکھی لیکن کرایہ محمد اسلم محمد الیاس کی کاروباری مشترکہ ہونے کی وجہ سے مشترکہ کاروبار سے اداء کیا جاتا رہا، اب سے تقریباً ایک سال قبل زید نے اس مسجد کی دوکان جس کا وہ کرایہ دار تھا مجلس منتظمہ کا ممبر بننے کے لئے بتقاضائے قانون دوکان مذکور کی کرایہ داری سے استعفاء دیکر دوکان مذکور کی کرایہ داری مجلس…

جواب

(۱) جب کہ محمد زید نے وہ دوکان محمد اسلم و محمد الیاس دونوں کو مشترکہ کاروبار کے لئے کرایہ پر دی اور دونوں سے معاملہ کیا تو دونوں ہی کرایہ دار ہوں گے، اگرچہ ضابطہ اور تحریر میں اولاً صرف زید کرایہ دار تھا، اور پھر کرایہ داری سے دست بردار ہو گیا، ایسی حالت میں اس کے ذمہ لازم تھا کہ مجلس منتظمہ کو مطلع کر دیتا کہ اب میں کرایہ دار نہیں، میں نے کرایہ دار اب ان دونوں کو تجویز کر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو