زانیہ لڑکی، لڑکے سے برتاؤ کیسا ہو؟
سوال
ہمارے گاؤں کی لڑکی جس کی عمر پندرہ یا سولہ سال ہے ابھی سماج کے موافق شادی نہیں ہوئی ہے، ادھر ایک بچہ پیدا ہو گیا، جس کو چار ماہ ہو گئے ہیں، گاؤں کے لوگوں نے اس سے سوال کیا تو جواب میں ایک شخص معین کا نام بتلایا اور وہ معین شخص انکار کر رہا ہے، اب اس لڑکی کے ساتھ اور اس کے بچہ کے ساتھ سماج میں چلنا پھرنا کیسا ہے، اور وہ شخص معین جس کے زنا سے یہ بچہ پیدا ہوا اس کے ساتھ سماج میں چلنا کیسا ہے؟
جواب
وہ بچہ بے قصور ہے، اس کو ترک تعلق کی سزا نہیں دی جاسکتی، البتہ اس کی ماں قصور وار ہے، اگر وہ سچے دل سے اپنی خطا کا اقرار کر کے توبہ کرے اور اپنے حالات درست کرلے تو حق تعالیٰ سے بھی توبہ قبول کرنے کی پوری توقع ہے، ایسی حالت میں اس کا جلد از جلد کسی مناسب جگہ اس کی مرضی سے نکاح کرا دیا جائے، اور کوئی سزا اس کو نہ دی جائے، اگر توبہ پر آمادہ نہ ہو اور ترک تعلقات سے اس کی اصلاح کی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔