زنا کا ثبوت اور تہمت لگانے والے کی سزا
سوال
ہمارے ایک بزرگ کے پاس جمال الدین کی ہمشیرہ آئی اور اس بزرگ سے عرض کیا مجھے تکلیف ہے، جھاڑ پھونک کے لئے کہا وہ صاحب گاہ گاہ دم وغیرہ کیا کرتے ہیں، آج دس ماہ بعد جمال الدین نے ایک عجیب بہتان گڑھ لیا کہ بزرگ صاحب نے میری بہن کو پھونک وغیرہ مارنے کے بعد گالیاں دی تھیں، (مراد زنا کاری) بہن سے بھی یہی بیان دلوائے ہیں، حالانکہ برادری کے ذمہ داروں نے تحقیق کی بزرگ حلفاً کہتے ہیں کہ میں نے ایسی غلطی نہیں کی ہے، اور میں ان باتوں سے اپنے رب سے پناہ مانگتا ہوں، اور توبہ کرتا ہوں، مگر جمال صاحب نے بر سر عام کہہ دیا کہ بزرگ…
جواب
زنا کا ثبوت امام المسلمین کے سامنے چار مرتبہ اقرار یا چار چشم دید عادل شاہدوں کی شہادت سے ہوتا ہے، اور وہ مقام دارالاسلام ہوتب زنا کی سزا رجم یا سو کوڑے کی سزادی جاتی ہے، ورنہ جو شخص کسی کو زانی کہے وہ سخت مجرم قرار پاتا ہے، اور امام المسلمین اس کو اسی کوڑوں کی سزا دیتا ہے، اور پھر ہمیشہ کے لئے ایسا شخص مردود الشہادت قرار پاتا ہے، کہ کسی معاملہ میں کبھی اس کی گواہی قبول نہیں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔