زانی کا زنا کی حد کو طلب کرنا اور اگر حد نہ لگائی گئی تو خودکشی
سوال
زید نے چند لڑکوں اور چند لڑکیوں کے ساتھ زنا کیا زید کہتا ہے کہ مجھ کو حد لگا دو تا کہ میرا گناہ معاف ہو جائے، اور کہتا ہے کہ اگر مجھ کو حد نہیں لگائی گئی تو میں زہر یا خود کشی سے مر جاؤں گا، اور میں زہر یا خودکشی کرنا حد کے درجہ سمجھوں گا، کیا زہر کھانا خود کشی کر لینا حد کے درجہ میں درست ہے، اگر حد لگاتے ہیں تو کہاں لگاتے ہیں؟
جواب
زنا کی حد شرعی کے لئے جو شرائط ہیں وہ اس وقت یہاں موجود نہیں، اس لئے حد لگانے کا کسی کو حق نہیں ہے خود کشی کرنا بھی حرام ہے زید پر لازم ہے کہ سچی توبہ کرے، نادم ہو خدا کے سامنے روئے اور زندگی بھر ان خبیث حرکتوں کے پاس نہ جائے، حق تعالیٰ کی مغفرت سے مایوس نہ ہو کہ وہ اس کے گناہوں سے بہت زیادہ ہے حق تعالیٰ کا وعدہ ہے” انی لغفار لمن تاب الاية اور “إِنَّ الله لا يغفر ان يشرك به…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔