الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کفاره زنا

سوال

رحمت ایک غیر شادی شدہ لڑکی تھی، جب وہ سن بلوغ کو پہنچی، ابھی اس کا شوہر بالغ نہیں ہوا تھا، کہ اس کا خالہ کے لڑکے بکر کے ساتھ محبت کا تعلق استوار ہو گیا، اور ناجائز طور پر ایک دوسرے کا اختلاط ہونے لگا، جب سر پرستوں کو اس کا علم ہوا، اور اس لڑکی کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس نے بکر سے ملنا جلنا ترک کر دیا، اس مذکورہ واقعہ کے دوران جبکہ خلط ملط ہوتے تو باہمی جنسی پیاس بھی بجھتی رہی، اب وہ لڑکا بھی شادی کے لئے آمادہ نہیں ہے، اب سوال یہ ہے کہ سنگسار کرنا یا دو سال کے لئے شہر بدر کرنا ممکن نہیں ہے، تو کفارہ اس…

جواب

جنسی ناجائز تعلق کی سزا بہت سخت ہے اور شرائط بھی سخت ہیں، مگر وہ شرائط آج کے دور میں یہاں موجود نہیں، اس لئے وہ سزا نہیں دی جاسکتی ہے روزہ یا کھانا کھلانا اس کی سزا نہیں، اب تو بس یہی ہے کہ خدا کے سامنے رو کر انتہائی ندامت کے ساتھ توبہ واستغفار کریں تطہر نفس کے لئے روزہ رکھیں تو یہ بھی مفید ہے، مگر یہ شرط شرعی حکم نہیں، جس قدر روزے رکھیں زیادہ فائدہ ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو