الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اگر کسی وارث کے متعلق اندیشہ ہو کہ وہ اپنا حصہ فروخت کر دے گا

سوال

میں اپنی حیات میں اپنے تین لڑکے اور ایک لڑکی کو شرع کے مطابق اپنے مکان کے حصے کر کے ان کے کے قبضہ قبضہ میں دیدینا چاہتا ہوں، منجھلے اور چھوٹے لڑکے اور لڑکی سے میں اور میری اہلیہ خوش ہیں، بڑے لڑکے کے ساتھ بیوی جس سے دولڑکے اور تین لڑکیاں ہیں، یہ بہو زنانہ اسکول میں ہیڈ ماسٹر ہے، اپنا، اپنے میاں اور بچوں کی پرورش اپنی آمدنی سے رہے،اپنا، عرصہ سے کر رہی ہے، اور اپنے ساس اور سسر کی ہر طرح کی خدمت کرتی رہتی ہے، جس کی وجہ سے ہم دونوں اس بہو سے بے انتہا خوش ہیں، بڑے لڑکے نے ہم دونوں کی ناخوشی کے با وجود دوسرا نکاح کرلیا،…

جواب

جبکہ اپنی زندگی میں ہی دینا چاہتے ہیں، تو چار حصے برابر کر کے تین حصے تینوں لڑکوں کو ایک حصہ لڑکی کو دیدیں، یعنی لڑکی کا حصہ لڑکے کے برابر ہوگا نصف نہیں ہوگا، سب کے حصوں پر ان کا قبضہ کرادیں، پھر ہر ایک کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنا حصہ خود رکھے یا ہبہ کرے، یا فروخت کر دے، آپ کو روکنے کا حق نہیں ہو گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو