الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیوی کے بیٹے کو مالک بنانے کا وعدہ کیا، پھر اس کے اپنی اولاد ہو گئی تو وہ کیا کرے؟

سوال

زید نے اپنی پہلی بیوی کے انتقال کے بعد ایک بیوہ عورت سے نکاح کیا، اس عورت کے پہلے شوہر سے جو دو بچے تھے، اپنے ساتھ لائی تھی، اور زید کی پہلی بیوی سے کوئی اولاد نہیں تھی، اس لئے زید نے دس آدمی کے سامنے یہ وعدہ کیا کہ میری ہر چیز کے مالک یہ لڑکا اور بعد میرے بھی یہی ہوگا، جس کا نام مختار احمد ہے، بعد چھ سات سال کے اس عورت کے بطن سے دو تین بچے ہوئے، مگر ایک لڑکا، بقید حیات ہے، جس کا نام محمد فاروق ہے، جب سن بلوغ ہوا تو زید نے یکے بعد دیگرے، دونوں لڑکوں کی شادی کردی، چند سال کے بعد محمد فاروق اپنے بڑے بھائی مختار احمد…

جواب

زید نے اپنی دوسری بیوی کے ساتھ آئے ہوئے، مختار احمد کو اپنی ہر چیز کا مالک بنایا، اپنی زندگی میں بھی اور بعد میں بھی لیکن کوئی چیز اس کو اپنی ملک سے نکال کر دے کر اس پر اس کا جداگانہ قبضہ نہیں کرایا تا کہ ہبہ شرعاً کامل اور معتبر ہو جاتا، زید اب بھی زندہ ہے اور اپنی ہر چیز پر قابض ہے، لہذا یہ ہبہ بیکار اور غیر معتبر ہے، جب تک زید زندہ ہے، مکان خود زید کا ہے، مختار احمد یا محمد…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو