مکان کی تعمیر کے لئے والدہ کو روپیہ دینا اور پھر اس میں اپنا حق بتلانا
سوال
ایک مکان ہے جو ہندہ کے نام ہے، ہندہ کے تین لڑکے ہیں، اور دو لڑکیاں، ہندہ کا بڑا لڑکا ہندہ کے انتقال کے بعد کہتا ہے کہ آدھے مکان کا میں مالک ہوں، کیونکہ مکان کے سلسلہ میں آدھی رقم میں نے والدہ کو دی تھی، اور صورت حال یہ ہے کہ مکان کا بیع نامہ ہندہ ہی کے نام ہے، اب اگر اس نے ہندہ کو آدھی رقم دی ہے، تو وہ رقم ہبہ ہوئی، یا نہیں؟ کیونکہ کچھ علماء نے ہبہ ہی بتائی ہے، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس طرح کی باتیں کہنے سے کیا وہ بڑا لڑکا آدھے مکان کا مالک بن سکتا ہے، یا نہیں؟
جواب
جب بڑے لڑکے نے رقم والدہ کو دیدی اور یہ نہیں کہا کہ یہ قرض ہے، میں واپس لونگا تو وہ رقم ہبہ ہی شمار ہوگی، اب اس مکان میں سے اس رقم کی وجہ سے بڑا لڑکا کچھ بھی حقدار نہیں، اور ہندہ کے وارث صرف یہی تین لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں، ہندہ کے والدین اور شوہر کا انتقال پہلے ہو چکا ہے، تو ہندہ کا ترکہ جس میں یہ مکان بھی شامل ہے، دو دو حصے تینوں لڑکوں کو ملیں گے، اور ایک ایک حصہ دونوں لڑکیوں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔