ہبہ اور وارث کے حق میں وصیت
سوال
ایک شخص نے حالت مرض میں اپنے تمام وارثوں کو جمع کر کے گل جائیداد کو برضامندی تمام ورثہ کچھ کم و بیش کے ساتھ تقسیم کر کے وصیت نامہ لکھوا کر اپنا دو حصہ کا رجسٹریکر دیا لیکن فعلاً قبضہ نہیں کیا، بلکہ قولاً قبضہ پایا گیا، اب وہ شخص اس مرض سے اچھا ہو کر کوئی تین چار ماہ تک رہا کسی کا کچھ اعتراض نہیں، پھر مرض دیگر سے ان کا انتقال ہوا، بعد انتقال کوئی تین ماہ بعد بعض وارث نے اعتراض کیا کہ اس تقسیم پر میں راضی نہیں ہوں، کیونکہ مجھے اور زیادہ ملتا ہے، لیکن جن کو زیادہ دیا گیا، ان کے ذمہ قرض بھی رکھا گیا۔
جواب
صورت مسئولہ میں ہبہ تام نہیں ہوا کیونکہ ہبہ کے تام اور لازم ہونے کے لئے موہوب لہ کا قبضہ ضروری ہے، اور یہاں قبضہ کی صراحہ نفی ہے۔” لاتجوز هبة المريض ولا صدقته الامقبوضة فاذا قبضت فجازت من الثلث واذامات الواهب قبل التسليم بطلت اه فتاویٰ عالمگیری، ج ۳، ص ۱۰۷۶ دوسرے یہ بظاہر بلا تقسیم ہے اور قابل تقسیم شئی کا ہبہ کر دینا بلا تقسیم کئے ہوئے ہبہ مشاع ہے، جو کہ ناجائز ہے، ولو وهب…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔