الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اپنے انتقال سے پہلے کسی وارث کو کچھ دیدے تو وہ عوض میراث نہیں بلکہ ہبہ ہے

سوال

حاجی محمد حسن نے انتقال کیا، ورثہ میں بیوی مسماۃ وسیہ اور دولڑ کے محمد اور شار احمد اور دولڑکیاں کریمہ و فاطمہ چھوڑی، پس ترکہ مورث کس طرح تقسیم ہوگا؟ واضح ہو کہ مسماۃ کریمہ اپنے باپ سے پانچسو روپے لے کر دست بردار ہوگئی، کہ مورث کے انتقال کے بعد جو مسماۃ مذکورہ کا حصہ شرعی ہوگا، رقم مذکورہ کے بدلہ میں باز آئی، پس مورث کی زندگی میں مسماۃ مذکورہ کی دست برداری صحیح ہے یا نہیں؟ اگر دست برداری صحیح نہیں ہے، تو رقم مذکورہ واپس کرنی ہوگی یا نہیں؟

جواب

وسیه محمدنثاراحمدکریمہفاطمه باپ اپنی زندگی میں کل مال کا مالک تھا، پانچ سو روپیہ کی رقم اگر اپنی صحت و تندرستی میں لڑکی (کریمہ) کو دی ہے، تو یہ اپنی ملک میں تصرف ہے، جو کہ شرعاً جائز ہے، اور نافذ ہے اور کریمہ اس رقم کی مالکہ ہوگئی، اور اس عقد کو عقد ہبہ کہا جاتا ہے اس کے ساتھ یہ بات کہ یہ رقم عوض میراث ہے، سو یہ لغو ہے، اس سے نہ عقد ہبہ میں فرق آتا ہے، نہ یہ رقم عوض میراث بنتی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو