الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اولاد کے درمیان ہبہ میں تفضیل

سوال

مجھے اپنی اہلیہ مرحومہ سے تین اولاد ہیں، دولڑکے محمد فاروق ومحمد ہارون اور ایک لڑکی ہے، میں نے ان تینوں کے بالغ ہونے پر ان کی شادی کر دی، شادی کے بعد دونوں لڑکے مجھ سے علیحدہ ہو گئے، بڑا لڑکا محمد فاروق پاکستان چلا گیا، اس کا کچھ پتہ نہیں، دوسرالڑکا محمد ہارون شہر ہی میں دوسری جگہ رہتا ہے، دوسری اہلیہ سے تین لڑکے محمد ہاشم محمد محسن اور عبداللہ سالم اور سات لڑکیاں ہیں، جن میں چار لڑکیاں اور ایک بڑالڑکا محمد ہاشم شادی شدہ ہیں، ہارون فاروق کی موجودگی میں تنہا کام کرنے والا تھا، اور میرا کاروبار بھی بہت معمولی حالت…

جواب

اپنی زندگی میں آپ پوری طرح مالک ہیں، آپ کو حق ہے کہ جس لڑکے، لڑکی کو یا کسی غیر کو اپنی جائیداد وغیرہ کل یا جزء جس طرح چاہیں دیدیں، مگر اس کا خیال رہے کہ کسی ہونے والے وارث کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہ ہو، یہ ظلم اور گناہ ہے، اس کا خطرہ ہو تو سب لڑکے اور لڑکیوں کو برابر دیا جائے، کیونکہ وہ اولاد ہونے میں سب برابر ہیں، قصد اضرار نہ ہونے کی صورت میں کسی کے ضرورت مند ہونے یا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو