ہونے والے وارث کو بیع یا ہبہ کرنا
سوال
زید، بکر ہر دو حقیقی بھائی ہیں، ان کو ترکہ پدر سے کچھ اراضی ملی تھی، جس میں دو مکان تعمیر شدہ تھے، اور ساڑھے تین سوگز زمین خالی افتادہ تھی، بکر نے تعمیر شدہ مکان زید کو قیمہ دیدیا اور افتادہ زمین جو بکر کے حصہ میں آئی تھی، مسکونہ مکان بنالیا، چونکہ زید کے أولاد نہیں محض دولڑکیاں تھیں، زید نے بکر سے کہا کہ بھائی میرے پاس تو گزارہ کے موافق دو مکان ہیں، یہ افتادہ زمین جو میرے حصہ میں ہے اس میں بھی تو ہی مکان بنالے، مجھے کیا کرنی ہے، گو یا زید نے بکر کو استحسانا اپنا حصہ بطور ہبہ کے دیدیا تھا۔
جواب
اگر زید کا مقصود اس بیع سے بکر کو نقصان پہنچانا ہے ذاتی مخالفت کی بنا پر تب تو زید کو ایسا نہیں کرنا چاہئے، کہ یہ فعل اس کے لئے مکروہ ہے، اور اگر مقصود یہ ہے کہ لڑکیاں زیادہ ضرورت مند ہیں یا زیادہ دیندار ہیں اور بکر کے متعلق اندیشہ ہے کہ وہ اپنے حصہ کو معصیت میں صرف کر دیگایا اور کوئی مصلحت ہے، یعنی بکر کو نقصان پہنچانا نہیں، بلکہ کسی اور مصلحت کی بناء پر ایسا کرتا ہے، تو کچھ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔