الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زمین صرف نام کر دینے سے ملکیت نہیں ہوتی

سوال

(۱) میرے والد جمشید خاں کا انتقال ۱۹۶۵ء میں ہو گیا، اس کے کئی برس پہلے میرے والد صاحب کے ایک دوست حافظ علی نے میرے والد صاحب سے کہا کہ مجھے گورنمنٹ سے بندوق کا لائسنس لینا ہے، گورنمنٹ بندوق کا لائسنس اسی کو دیتی ہے، جس کے نام کوئی آراضی ہو، والد مرحوم نے حافظ صاحب کے نام ۵۳/ ایکڑ زمین کر دی، اور انہوں نے یہ کھاتا دکھلا کر گورنمنٹ سے لائسنس حاصل کرلیا، لائسنس ملنے کے بعد حافظ صاحب نے زمین واپس کرنے کا وعدہ کیا تھا، اسلئے والد صاحب نے برائے نام کر دیا تھا، یعنی صرف کاغذات تک محدود تھا، ورنہ حافظ صاحب کا کوئی تعلق اس…

جواب

اگر پہلے سے طے کر لیا کہ محض لائسنس حاصل کرنے کی مصلحت سے صرف کاغذ میں نام درج کرایا جا رہا ہے، مالک نہیں بنایا جا رہا ہے، پھر اس پر حافظ صاحب کا قبضہ نہیں ہوا، تو شرعاً یہ ہبہ معتبر نہیں، حافظ صاحب کو اس کا حق نہیں تھا کہ وہ اس زمین کو رہن رکھ کر اس پر قرض لیں، اولاد نے بعد میں وہ آراضی واپس کر دی، یہ بھی دلیل ہے کہ اولاد نے اس کو ہبہ نہیں تصور کیا، اب قرض کے متعلق یہ حکم ہے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو