ہبہ کی ایک صورت
سوال
حافظ علی کے پاس مالگذاری کی ۸۲٫۸۱ را یکٹر زمین تھی، ان کے کوئی أولاد نہیں تھی، انہوں نے ایک لڑکا پالا تھا، اور اپنی زندگی میں جائیداد کا کم حصہ بخشش کر دیا تھا، اس کی تاریخ ۹ نومبر ۱۹۱۶ ء ہے ان کی بیوی حیات تھی، اس لڑکے کے ایک لڑکی پیدا ہوئی، اور حافظ علی کی بیوی نے اس لڑکی کی شادی اپنے بھائی حیدرعلی سے کر دی، اور جائیداد کا حصہ ۲۱ / مارچ ۱۹۳۳ء کو بخشش کر دیا لیکن اس لڑکی کا ۱۹۳۶ء میں انتقال ہو گیا، اب صرف ۷ حصہ حافظ صاحب کی بیوی کے پاس بچا ہے، اس مرحومہ لڑکی کی دولڑکیاں نابالغ تھیں، منور بیگم نے بچی ہوئی جائیداد…
جواب
بحالت صحت منور بیگم نے جو زمین نابالغ لڑکیوں کو شرعی طور پر ہبہ کردی، اور انکے والد عباس کو اس پر سر پرست کی حیثیت سے قبضہ کر دیا، تو وہ زمین لڑکیوں کی ہوگئی ہے اب اس کو اپنی زمین بتانا اور لڑکیوں کو نہ دینا جائز نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔