وقت احصار بغیر ذبح حلال ہونے کی شرط
سوال
(۱) اشتراط الاحلال بغیر ذبح عند الاحرام وقت الاحصار مفتی بہ قول کے مطابق صحیح اور معتبر ہے یا نہیں؟ بصورت مذکورہ احصار شرعی پیش آ گیا، تو ہدی ذبح کئے بغیر احرام سے حلال ہو جائے گا یا نہیں؟ سوال: (۲) گذشتہ سال ایک صاحب نے دم جنایت منی میں دم شکر (دمِ قرآن دم تمتع) کی طرح صرف ذبح کر کے چھوڑ دیا، فقراء پرتقسیم نہیں کیا، کیا دم جنایت میں ذبح کے بعد تصدق على الفقراء بھی ضروری ہے؟ اگر ضروری ہو تو اب اس کی تلافی اور تدارک کی کیا شکل ہے؟ تاکہ اس سال جانے والے کسی حاجی سے اس کی تلافی کر دی جائے؟
جواب
(۱) یہ شرط کارآمد نہیں، بغیر ہدی ذبح کئے حلال نہیں ہوگا، ”مالم يذبح لا يحل وهو قول عامة العلماء سواء شرط عند الاحرام الاحلال بغیر ذبح عند الاحصار اولم يشترط ويجب ان يواعد يوماً معلوماً يذبح عنه فيحل بعد الذبح ولايحل قبله اه فتاوی عالمگیری، ج ۱، ص ۱۴۰/ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔