حج فارم میں یہ دستخط کرنا کہ پانچ سال سے حج نہیں کیا دھوکا ہے جبکہ خلاف واقع ہو
سوال
(۱) حج کے درخواست فارم میں اس بات کا بھی اقرار ہوتا ہے کہ پانچ سال کے اندر حج نہ کیا ہو، اگر کوئی شخص جاچکا ہے تو کیا یہ شخص دھوکا دینے والا کہلائیگا یا نہیں؟ (۲) ایک شخص زید کو حج بدل کے لئے بھیجتا ہے لیکن زید قانونی وجہ سے نہیں جاسکتا تو کیا زید کیلئے اس کے لکھنے کی گنجائش ہے کہ پانچ سال کے اندر حج کو نہیں گیا، یا صرف خانہ میں دستخط کر دے اور کچھ نہ لکھے، ایسی صورت میں اگر حج کو چلا گیا تو حج ہو جائے گا یا نہیں؟ (۳) اور نہ لکھنے کی صورت میں اگر درخواست منظور ہوگئی اور وہ شخص چلا گیا تو حج بدل ہوگا یا نہیں؟
جواب
(۱) اس میں کیا شبہ ہے؟ (۲) اس لکھنے یا دستخط کرنے کی اجازت نہیں، اگر ایسا لکھدے یا دستخط کر دے گا تو گنہ گار ہوگا، مگر اس سے جو حج فرض ادا کر چکا ہے، وہ باطل ہو کر دوبارہ حج کرنا فرض نہیں ہوگا البتہ حج فرض کے ذریعہ سے گناہ صاف ہو کر پاک وصاف ہو گیا، وہ پاکی بعد خطا اب باقی نہیں رہے گا، گناہ میں ملوث ہو جائے گا، اس لئے ایسا ہر گز نہ کیا جائے۔ (۳) حج بدل تو ہو جائے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔