وقوف مزدلفہ ترک ہو گیا تو دم واجب ہے
سوال
احقر نے اسی سال مع اپنی اہلیہ کے فریضہ حج ادا کیا ہے، جس ڈرائیور نے عشاء کے وقت مزدلفہ پہنچایا اور کہا ”صلوا صلوا“ ہم نے اور دوسرے حجاج نے نماز مغرب اور عشاء ادا کی بعد نماز ڈرائیور نے رمی جمار کی کنکریاں جمع کرنے کا اشارہ کیا،لوگوں نے کنکریاں چن لیں، اب اس نے دوبارہ موٹر پر بیٹھنے کا اشارہ کیا، تو مجھے شبہ ہوا کہ ڈرائیور اسی وقت منی جانا چاہتا ہے، چونکہ ہم ایک دوسرے کی زبان کو سمجھنے سے قاصر تھے، پھر بھی ہم نے کسی طرح بعد صبح صادق وقوف مزدلفہ کے بعد کہا ڈرائیور نے طیب“ کہا اور کہا کہ ہم مزدلفہ کی سرحد پر روکیں…
جواب
عام طور پر رات مزدلفہ میں ہی گذاری جاتی ہے، اس کی ڈرائیوروں کو ہدایت ہے، اس کی نگرانی بھی کی جاتی ہے محض بجلی کی روشنی وغیرہ نظر آنے کی وجہ سے سمجھ لینا بھی آسان نہیں، کہ حدود مزدلفہ سے خارج رات گزاری ہے تاہم اگر یہ ثابت ہو جائے، کہ دھو کہ ہو گیا اور صبح صادق کے بعد مزدلفہ میں بالکل وقوف نہیں ہو سکا، بلکہ پہلے مزدلفہ سے نکل کر منی میں داخل ہو گئے، اور رات ختم ہونے پر وہیں سے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔