کیا دم جنایت کو فقراء پر تقسیم کرنا ضروری ہے / عمرہ کا احرام کھولنے میں چند بال کٹوائے تو دم ہے
سوال
میں اس سے قبل تقریباً ۶ ماہ قبل عمرہ کیلئے پہلی دفعہ گیا، اور عمرہ کے بعد صرف چند بال سر کے کٹوا لئے تھے، اور واپس آ گیا، (ایک عمرہ کیا تھا) پھر دوبارہ چند ماہ پہلے گیا تو دوعمرے کئے، اور دونوں دفعہ صرف چند بال سر کے کٹوا دیے تھے(اس دفعہ دو عمرے کئے تھے) اب تک صرف چھوٹی موٹی کتابیں حج وعمرہ پر مل سکیں تھی، جس میں مسائل کھول کر بیان نہیں کئے ہوتے، الحمد للہ کہ اب قاری محمد سعید صاحب مفتی اعظم مظاہر علوم سہارنپور کی تالیف کردہ کتاب مل گئی، اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ حج سنت نبوی کے مطابق ہو سکے، انشاء اللہ آپ سے…
جواب
آپ تین عمروں کے تین دم دیدیں، خواہ حج سے پہلے یا ایام نحر میں یا بعد میں جب بھی سہولت ہو، اللہ تعالیٰ حج مبرور نصیب فرمائے، ہر قسم کی جنایات سے محفوظ رکھے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔