الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیوی کو حج کے لئے ساتھ لیجانا کب ضروری ہے

سوال

زید حج بیت اللہ کیلئے جا رہا ہے، اس کی بیوی کے پاس ایک ہزار روپے نقد موجود ہیں، جو کرایہ وغیرہ کیلئے کافی ہوگا، مگر زادراہ کا روپیہ اس کے پاس نہیں ہے، اسکی بیوی زید سے تقاضا کرتی ہے کہ آپ گھر رہنے کی صورت میں میرے نان و نفقہ کا انتظام کریں گے، وہی روپیہ مجھے دیدیجئے تا کہ آپ کے ہمراہ میں بھی حج کو چلوں، تو کیا ایسی صورت میں زید کی بیوی پر حج فرض ہو جاتا ہے، کیا زید کی بیوی اپنے مطالبہ نان و نفقہ میں حق بجانب ہے، کیا زید پر واجب ہے کہ بیوی کے زاد راہ کا انتظام کر کے اپنے ہمراہ حج کیلئے لیجائے، اگر زید زحمت کی وجہ…

جواب

جب کہ زید حج کو جارہا ہے، اور بیوی کے پاس خرچ راہ اور کرایہ آمد و رفت موجود ہے، تو بیوی کا نان و نفقہ ساقط ہونے کی کوئی وجہ نہیں، اگر بیوی نہ جاتی تو زید کے ذمہ لازم تھا کہ اس کو نان و نفقہ دیگر جاتا البتہ ساتھ جانے کی صورت میں وہ نان و نفقہ لازم ہوگا، جو حضر میں لازم ہوتا سفر کی وجہ سے جس قدر نان نفقہ زائد خرچ ہوگا، اس کی ذمہ داری زید پر نہیں، زید کے ذمہ لازم ہے کہ اس کو ساتھ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو