دروغ حلفی کر کے حج ثانی کرنا
سوال
حج کے لئے یہ پابندی ہے کہ ایک مرتبہ حج کرنے کے بعد پانچ سال تک وہ حج کے لئے نہیں جاسکتا، حکومت نے اس سلسلہ میں ایک حلف نامہ بھی جاری کیا ہے، اگر ان پابندیوں کے باوجود کسی صورت سے ہم حج کے لئے چلے جائیں تو گناہ تو نہیں ہوگا، اور حج ادا ہو گا کہ نہیں؟ حلف نامہ میں غلط بیانی کرنا درست ہے یا نہیں؟
جواب
دروغ، زبانی ہو یاتحریری، بہر حال دروغ ہے اور دروغ حلفی اس سے بھی زیادہ قبیح اور شنیع ہے، حج بدل کے لئے ایسے آدمی بھی بسہولت مل سکتے ہیں جن کے لئے حلفیہ دروغ بیانی کی ضرورت نہیں اور قانونی رکاوٹ بھی ان کے لئے نہیں ہوگی، پھر قانون کی مخالفت تو اور بھی خطرناک ہے، جعل کھل جانے پر مال وعزت دونوں کا خطرہ ہے، ایسا خطرہ مول لینا قرین دانشمندی نہیں ہے تا ہم حج فرض ادا ہو ہی جائے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔