جھوٹ اندراج کرا کے حج ثانی کرنا
سوال
سائل نے ۱۹۴۰ء میں حج بیت اللہ کا شرف حاصل کیا، امسال پھر حج کی خواہش ہے، ارادہ ہے کہ کلکتہ سے جہاں میرے ایک چچازاد بھائی بسلسلہ تجارت مقیم ہیں، وہاں سے حج کی درخواست دوں مگر ایک دشواری یہ ہے کہ درخواست کے فارم میں ایک سوال یہ چھپا ہوتا ہے کہ کیا آپ نے اس سے پہلے کبھی حج کیا ہے؟ اگر جواب اثبات میں دیا جائے تو درخواست منظور ہونے میں دشواری ہوتی ہے، بلکہ منظور ہونے کی امید ہی نہیں رہتی، اگر نفی میں جواب دیں تو یہ جھوٹ ہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا حج کا شرف حاصل کرنے کے لئے اتنا جھوٹ بولنے کے سلسلہ میں معذور قرار…
جواب
عمر بھر کاسوال نہیں ہوتا، بلکہ پانچ سال کا سوال ہوتا ہے، آپ نے پانچ سال میں حج نہیں کیا ہے، پس آپ کا اس میں انکار لکھ دینا صحیح ہوگا، جھوٹ نہیں، نیز جب آپ کلکتہ سے جارہے ہیں تو وہاں سے آپ نے کبھی بھی حج نہیں کیا، یہ بات بھی صحیح ہے، جھوٹ کی ضرورت نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔