حج ثانی کے لئے پانچ سال کی قید
سوال
حکومت ہند نے حج کے سلسلہ میں یہ قید لگارکھی ہے کہ ایک مرتبہ آدمی حج کرنے بعد پانچ برس تک حج کو نہیں جاسکتا ہے، ایسی قید کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ایک حلف نامہ بھی بھرنا پڑتا ہے، کہ میں حلفیہ کہتا ہوں کہ پانچ برس میں سے کسی سال بھی حج کو نہیں گیا ہوں، کیا اس پابندی میں توریہ کی کوئی شکل ہو سکتی ہے؟ یہ شخص گذشتہ دو سال پہلے حج بدل میں جا چکا ہے، اب اپنا حج فرض ادا کرنا چاہتا ہے، مگر یہ حلف والی شرط در پیش ہے۔
جواب
ایسی پابندی لگانے کا کوئی شرعاً حق نہیں، جھوٹی قسم کھانا اور جھوٹے حلف نامہ پر دستخط کرنا گناہ ہے اگر کوئی توریہ میں یہ نیت کرے کہ گذشتہ پانچ سال میں اپنے حج فرض کو نہیں گیا، تو نیت صحیح ہوسکتی ہے، جبکہ اپنا حج فرض ادا نہیں کیا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔