وقوف مزدلفہ
سوال
اگر ہجوم کیوجہ سے عورتیں اور ضعیف مردوں کو تکلیف کا اندیشہ ہوا ور مزدلفہ کا قیام نہ کریں، تو دم واجب نہیں ہوگا، کیا بالکل ہی مزدلفہ نہ جائیں اور جہاں مغرب کا وقت ہو مغرب کی نماز پڑھیں اور عشاء کے وقت عشاء کی نماز پڑھیں تو کیا یہ بلا کراہت جائز ہے؟
جواب
صبح صادق سے سورج نکلنے تک ذراسی دیر بھی وقوف کر لیا خواہ سوتے یا جاگتے بلکہ وہاں سے گذرنے سے بھی وقوف ہو کر واجب ادا ہو جائیگا، صبح صادق سے پہلے مزدلفہ میں ٹھہرنے سے واجب ادا نہیں ہوگا، اور ترک واجب کی وجہ سے دم لازم ہوگا، اگر رات کو مزدلفہ نہیں پہنچ سکا حتی کہ صبح صادق ہوگئی، اس وقت ہی پہنچا تو اس پر دم لازم ہے، سورج نکلنے میں جب دو رکعت کی مقدار وقت باقی رہ جائے اس وقت تک…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔