قرض لیکر حج کرنا
سوال
ایک شخص قرض جات کے بار گراں سے دبا ہوا ہے لیکن اسکے پاس سرمایہ (جائیداد اس قدر ہے، کہ اس کو چکانے کے بعد بھی اتنا پس انداز ہوتا ہے) کہ اس سے مصارف حج پورے ہو سکیں، اور اس کے اہل وعیال جن کا وہ سر پرست ہے، اس کی غیر حاضری میں اچھے ڈھنگ سے گذر بسر اوقات کر سکیں، نیز واپسی حج کے بعد وہ فارغ البال بھی رہے، کیا ایسے شخص پر حج بیت اللہ فرض ہے، اس سلسلہ میں یہ امر بھی دریافت طلب ہے، کہ اگر وہ اپنے بارگراں کو بعد واپسی ہی چکا دے تو کیا حرج ہے، چونکہ موجودہ حالات میں بالفرض محال اگر وہ اپنی جزو جائداد ہی کو فروخت کرے گا،…
جواب
اللہ پاک نے جب اتنی وسعت اور گنجائش دے رکھی ہے تو اس کو حج ہی کر لینا چاہئے، تاخیر نہ کرے، اپنی دوسری حوائج کیلئے قرض لیتا ہی ہے، اور لے ہی رکھا ہے، اور ادائیگی کے واسطے خدا کا دیا ہوا سب کچھ موجود ہے، آپ حج میں تا خیر نہ کریں، جس سے روپیہ لیں اس کو تحریر لکھ کر کام پختہ کر دیں، کہ اس کا روپیہ ضائع نہ ہو موت وحیات کا معاملہ سب کے ساتھ ہے کسی معتبر آدمی کو ادائے قرض کا ذمہ دار…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔