صاحب استطاعت کو حج کے لئے بھیجنا
سوال
بیوی کے حالات خراب ہونے پر مجھے اس سے ناراضگی پیدا ہو گئی اب وہ میرے پاس اپنے گھر سے آنا چاہتی ہے تو میں نے کہلا بھیجا کہ تو حج کو جا کر آ تب میں تجھے گھر میں رکھوں گا اس سے پہلے تو گھر میں نہیں آسکتی اور تو میری صورت نہیں دیکھ سکتی اور میں تیری صورت نہیں دیکھ سکتا، میرا حج کی شرط لگانا صحیح ہے یا نہیں کیونکہ حج کرنے سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں؟
جواب
اگر اس پر حج فرض ہے تو ضرور حج کو بھیجنا چاہئے، اگر یہ توقع ہو کہ حج کے ذریعہ سے ہی اسکی اصلاح ہوگی، بغیر اس کے اصلاح نہ ہوگی تو پہلے حج کرالیا جائے، اگر اس کو ندامت ہے، اور اپنی غلطی پر شرمندہ ہے تو حج سے پہلے بھی بلا سکتے ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔