الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

صاحب استطاعت کو حج کے لئے بھیجنا

سوال

بیوی کے حالات خراب ہونے پر مجھے اس سے ناراضگی پیدا ہو گئی اب وہ میرے پاس اپنے گھر سے آنا چاہتی ہے تو میں نے کہلا بھیجا کہ تو حج کو جا کر آ تب میں تجھے گھر میں رکھوں گا اس سے پہلے تو گھر میں نہیں آسکتی اور تو میری صورت نہیں دیکھ سکتی اور میں تیری صورت نہیں دیکھ سکتا، میرا حج کی شرط لگانا صحیح ہے یا نہیں کیونکہ حج کرنے سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں؟

جواب

اگر اس پر حج فرض ہے تو ضرور حج کو بھیجنا چاہئے، اگر یہ توقع ہو کہ حج کے ذریعہ سے ہی اسکی اصلاح ہوگی، بغیر اس کے اصلاح نہ ہوگی تو پہلے حج کرالیا جائے، اگر اس کو ندامت ہے، اور اپنی غلطی پر شرمندہ ہے تو حج سے پہلے بھی بلا سکتے ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو