حکومت سعودیہ کے حکم پر حج دو دن پہلے
سوال
اس سال ۲۹ ذیقعدہ ۱۳۹۵ھ کو رویت ہلال بروز پنجشنبہ اور یکم ذی الحجہ جمعہ کو ہوئی اس حساب سے یوم عرفہ سنیچر کوتھا یہی دن وقوف عرفات و یوم الحج تھا کیا یہ حج صحیح ہے؟ ۱۰رذی الحجہ کو منی میں جو قربانیاں دی گئیں صحیح ہوئیں؟ کیا ان حجاج کا فریضہ حج جوان پر فرض تھا ادا ہو گیا؟ یہ اور بات ہے کہ بہ نیت حج ابتداء سفر ہی سے یہ حجاج ثواب کے مستحق ہو گئے، اگر یہ حج نہیں ہوا کیونکہ حکومت سعودیہ کے حکم پر خاص یوم حج سے دو دن پہلے ہوا تو کیا یہ مداخلت فی الدین نہیں؟
جواب
حکومت سعودیہ میں جہاں تک مجھے علم ہے۔ رویتِ ہلال کا خاص کر حج سے متعلق بہت اہتمام کیا جاتا ہے۔ جہاں بھی رویت ہوئی فوراً محکمہ میں شہادت کی جاتی ہے۔ اور تمام علاقہ کے قضاۃ ثبوت فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، پھر اس ثبوت و شہادت پر پوری جرح اور گفتگو ہوتی ہے، پھر سب کو سامنے رکھ کر مل کر خود فیصلہ کرتے ہیں اور باضابطہ اس کی اطلاع دی جاتی ہے اور اعلان کیا جاتا ہے، خطبات دئے جاتے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔