حج کے ذریعہ سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں
سوال
جس پر حج واجب ہو چکا اس نے حج کیا تو حدیث شریف کے لحاظ سے اس کیلئے شفاعت حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب ہو جاتی ہے، اور اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، جیسے کہ ماں کے پیٹ سے دوبارہ پیدا ہوا ہو، حج کے بعد جو کچھ گناہ بقیہ عمر میں ہوتے ہیں، تو مرنے کے بعد اسی سے باز پرس یعنی حساب و کتاب پیدائش سے تا موت کا ہوگا، یا حج کے بعد سے موت تک جتنے گناہ کئے محض اس کی سزا بھگتنی ہوگی، اور پیشتر کے گناہ بوجہ حج کے معاف ہو جائیں گے؟
جواب
جن گناہوں کی معافی کی بشارت حج کرنے پر دی گئی ہے حج کرنے سے انکی باز پرس نہیں ہوگی، کیونکہ وہ معاف ہو چکے اور بعد حج جو گناہ کئے ہیں، انکی معافی گذشتہ حج سے کسی حدیث میں مذکور نہیں، لہذا اگر توبہ نہیں کی تو ان کی باز پرس ہوگی؟
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔